کینسر کے جینوم کا عالمی منصوبہ مکمل: حیرت انگیز انکشافات

کینیڈا: دنیا بھر کے 1300 سے زائد سائنسدانوں نے مسلسل دس برس تک 38 مشہور کینسروں کا جائزہ لے کر کینسر کا جینوم ڈرافٹ تیار کیا ہے۔ اس اہم تحقیق سے دلچسپ انکشافات ہوئے ہیں اور کینسر کو سمجھنے میں مدد ملی ہے۔ اس منصوبے کو ’پین کینسر ریسرچ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس تحقیق سے مختلف اقسام کے سرطانوں میں یکسانیت بھی دیکھی گئی ہے تو دوسری جانب کئی جینیاتی مقامات ایسے ملے ہیں جو روبہ عمل ہوکر خلیات (سیلز) میں تبدیلی کرکے انہیں رسولی میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہ تحقیق نیچراور ملحق دودرجن سے زائد جرنلز میں شائع ہوئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینسر جینوم کو پڑھنے کی یہ جامع ترین کاوش ہے۔

منصوبے سے وابستہ لنکن اسٹائن نے اونٹاریو انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ریسرچ میں ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ تحقیق ہر مرحلے میں رسولی کی صورت اور ارتقا کو ظاہر کرتی ہے۔ اسے سمجھنے سے کینسر کے علاج اور شناخت کے نئے طریقے سامنے آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کا خوف: ہیکروں نے حملے تیز کردیئے

ایک اور انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ ہر شخص کا کینسر جینوم دوسرے سے مختلف ہوسکتا ہے۔ اس تحقیق سے انفرادی (صحت مند) خلیات میں تبدیلی یعنی میوٹیشن کے ہزاروں مجموعے سامنے آئے ہیں۔ پھر مجموعی طور پر 80 طریقے سامنے آئے ہیں جو اچھے خاصے خلیے کو سرطان زدہ کردیتے ہیں۔ ان میں تمباکو نوشی، عمر رسیدگی اور طرزِزندگی بھی شامل ہیں۔

ایک اور بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ کسی بھی ظاہری علامت کے بغیر بعض اقسام کے کینسر حملے سے کئی عشروں پہلے پیدا ہوتے ہیں اور بعض تو بچپن میں ہی پروان چڑھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک سے پانچ فیصد کینسر ایسے بھی ہیں جو کسی بھی طریقے سے تشخیص نہیں ہوپاتے اور یوں جینیاتی حوالوں سے ہی سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کمپیوٹر کی تعلیم، کیسے اور کہاں سے حاصل کریں؟

سرطان کے مریض بچوں میں جینیاتی تبدیلیاں سب سے کم دیکھی گئیں جبکہ پھیپھڑے کے سرطان میں یہ تبدیلی ایک لاکھ سے زائد تھی۔ پانچ فیصد کینسر ایسے بھی تھے جس میں کسی قسم کی کوئی جینیاتی تبدیلی سرے سے واقع ہی نہیں ہوئی۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دو مختلف اقسام کے کینسر میں جینیاتی تبدیلی کی وجہ ایک بھی ہوسکتی ہے۔ اس ساری محنت کا حاصل یہ ہے کہ مشکل سے قابو آنے والے کینسر کے علاج کے نئے طریقے سامنے آئیں گے۔ ہر شخص کے جینیاتی میک اپ کی وجہ سے اس کےلیے خاص دوا بھی بنائی جاسکتی ہے۔